* *عنوان: "مذہب کے متعلق غلط تصورات”

**سوال

( مغالطہ: مذہب نے انسانی زندگی کے لئے کیا رہنمائی دی ہے؟ بلکہ مذہب نے انسان کو دنیا سے دور کیا ہے، اور دنیاوی زندگی کو لعنت قرار دیا ہے۔**الجواب: بتوفیقِ اللّٰہ تعالیٰ* *

(اجمالی)ازالہ مغالطہ:*

معترض نے اسلام سے پہلے رائج رجحانات کو مذہبِ اسلام سے جوڑ کر یہ اعتراض کیا ہے کہ مذہب نے انسانی زندگی کے لئے کیا رہنمائی دی ہے؟ بلکہ مذہب نے انسان کو دنیا سے دور کیا ہے، اور دنیاوی زندگی کو لعنت قرار دیا ہے۔اگر غور کیا جائے تو اسلام سے پہلے جو تمدن کش رجحانات کار فرما تھے ان میں سب سے زیادہ نمایاں تصور یہ تھا کہ دنیاوی زندگی ایک لعنت ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا انسانی نجات کے لیے ضروری ہے۔ بدھ مت نے ہندوستان میں اس رجحان کو اؤر زیادہ تقویت دی اس نے ترکِ خواہشات پر مذہب کا دار و مدار رکھا اور نروان یا فنائے کامل کو مقصود حیات قرار دیا۔ اس کے علاوہ اس نے ایک نہایت وسیع اور منظّم خانقاهی نظام کی تخلیق کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں لاکھوں انسان جو اعلیٰ درجے کی صلاحیتوں کو قوت سے فعل میں لاکر تمدن کی ترقی اور انسانیت کی خوش حالی میں اضافہ کر سکتے تھے دنیا اور علائق دنیا سے الگ ہو کر خانقاہوں ، جنگلوں اور پہاڑوں میں ریاضت اور نفس کشی کے دن گزارنے لگے۔ ان کے نزدیک انسان کی تخلیق و مقاصد میں خدمتِ خلق کے لیے کوئی چگہ نہیں تھی بلکہ بس دنیاوی زندگی سے الگ ہو کر کسی جنگل یا غار میں چھلّے گزارنے کے لئے کے لیے تھی اور روحانی تسکین و نجات کے حصول کا طریقہ یہ نہ تھا کہ انسانیت کو اس پست سطح سے بلند کیا جائے، تمدن کے وسائل کو ترقی دی جائے اور انسانی تعلقات کے نظام کو بہترین مقام پر قائم کیا جائے، بلکہ روح کی نجات اور تسکین کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ آدمی کسی گوشے میں بیٹھ کر دنیا سے ماوراء ہو کر ہمیشہ کے لیے ریاضیات کرتا رہے اور زبان ، کان ، آنکھ اور دل و دماغ کے تمام در بیچے بند کر کے صرف چھلّے گزارنے میں دن و رات صرف کریں۔اسلام نے اس طرزِ عمل کی مخالفت کی اور رہبانیت کو ممنوع قرار دیا، اور دنیاوی زندگی میں انسان کی ہر موڑ پر رہنمائی کی ہے۔

*تفصیلی:*

مذہب کے متعلق غلط تصورات

…. ہندو مت کے علاوہ اگر دیگر مذاھب کی بات کی جائے تو عیسائیت نے زندگی کو لعنت تو نہیں قرار دیا لیکن اس نے انسان کی پیدائشی گناہگاری کے تصور سے ایک ہمت شکن اور تمدن کش طرز فکر پیدا کر دیا جو تحریف کی صورت ایک علم ناک صورت ہے۔ بدھ مت کی طرح عیسائیت بھی خانقاہی زندگی کی حامی بن گئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں مردوں اور عورتوں نے زندگی کے اعلیٰ مشاغل ترک کر دیے اور اپنی قوتوں کو انسانیت کے فائدے کی خاطر استعمال کرنے کے بجائے انھیں بالکل مجہول کر دیا۔ اس ضمن میں ہم قسطنطین اعظم کے مصنف جی بی فرتھ اسکوائر کا حسب ذیل بیان پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ مذہبی عبادات و ریاضات کا یہ غلو دنیا کو کس طرف لیجا رہا تھا۔ "کسی شخص کو انکار نہیں کہ دوران سلطنت میں خاص کر اس کے مشرقی حصے میں لوگوں کے اطوار بگڑ کر کس درجہ بیعتیں شروع ہو گئی تھیں او کیسے بے شرمی اور بدکاری پھیل گئی تھی۔ اگرقوم کا بیعت مجموع کوئی آیا تھا تواس کی قوت احساس بالکل زائل ہو چکی تھی۔ اب اس کے لبوں پر مہر سکوت تھی۔ کوئی نیک ہدایت اس سے ظاہر نہ ہوتی تھی ۔ نیک بخت اور پاکیزه طبیعتیں نازک مزاج بن کر الگ ہو بیٹھی تھیں ، تمام خرابیوں کو گوارا کر کے مطلق ہاتھ پاؤں نہ ہلاتی تھیں۔ پس اشد ضرورت تھی کہ کوئی تحریک ان گمراہوں کے رفع کرنے کے لیے ظاہر ہو۔ آخر کار وہ تحریک ظاہر ہوئی اور مسیحی دین کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ لیکن اس دین کے ماننے والوں میں بہت لوگ ایسے تھے کہ جن گنا ہوں میں دنیا تھی ان کو جتا کر خود دنیا چھوڑ بیٹھے تھے اور گوشہ نشین ہو کر رہبانیت اختیار کرلی تھی ۔ رہبانیت بھی ایسی سخت جس میں انسان کی فطری کمزوریوں کا لحاظ کرنا توچیزِ دیگر تھا، قدرتی ضرورتوں کو بھی جو انسان کے ساتھ لگی ہیں قطعی ترک کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان لوگوں میں جن کے مزاج میں سختی بڑھی ہوئی تھی اتنا توضرور مانا جاتا تھا کہ ازدواج ایک قابل عزت چیز ہے لیکن تجرد کی خوبیوں کو بیان کرنے میں بہت غایتِ مبالغہ کرتے تھے اور گو خود اس پر عمل نہ ہو لیکن دوسروں کو سمجھانے میں جس قدر فصاحت و بلاغت میں کمال پیدا کیا تھا وہ سب اسی مضمون پر صرف کیا جاتا تھا۔ کوئی شخص بلا افسوس اس تکلیف و اذیت کا اندازہ نہیں کر سکتا تھا جو صد ہا بلکہ ہزار ہا مردوں اور عورتوں کو اس رہبانیت کی وجہ سے اٹھانی پڑیں جو اگر بالکل نئی نہ تھی توکم از کم سختی میں پہلے سے بڑھی ہوئی تھی۔ سلطنت کو اور ملکوں کو ان مردوں اور عورتوں کی خدمت کی واقعی ضرورت تھی اور بہت خوب ہوتا کہ ملک ان کی خدمتوں سے مستفید ہوتا ، لیکن ان لوگوں نے دنیا کے تعلقات سے کنارہ کشی اختیار کیا اور تنہائی کے گوشوں میں جا بیٹھے جہاں انھوں نے یہ نہیں سیکھا کہ اپنے بھائی انسان کی مدد کس طرح کرتے ہیں بلکہ اس خود غرضانہ حیرانی اور پریشانی میں کہ کس طرح خود عذاب آخرت سے بچے جائیں، اپنا خاتمہ کر دیا۔ ان کو سوائے اپنی روحانی نجات کے اور کسی چیز سے بحث نہیں رہی تھی”۔یہی مصنف آگے چل کر لکھتا ہے : ” اس کے ساتھ اس کا خیال بھی رہنا چاہیے کہ ازدواج سے پرہیز کرنا اور اس کی ذمہ داریوں سے بچنا رومانی سلطنت میں کوئی نئی بات نہ تھی، صدہا برس سے سلطنت کو خوف تھا کہ بڑے طبقوں میں بالخصوص یہ خیال قوّت پکھڑ جاتا کہ شادی کر کے اہل و عیال کا بوجھ اپنی گردن پر لینا درست نہیں۔ چنانچہ رعایا کے اسی میلان طبیعت کو بدلنے کے لیے سلطنت کی جانب سے خاص خاص انعام ، محصولات سے معافیوں کے وعدے ہوئے تاکہ لوگ صاحب اولاد ہونے سے پرہیز نہ کریں …. اس قسم کے احکام اس اصول پر مبنی تھے کہ انسانی معاشرت کا یہ لازمی فرض ہے کہ انسان شادی کر کے ملک کی خدمت کے لیے اولاد پیدا کرے ۔ چنانچہ دربار کے ایک خوش بیان شاعر نے لکھا تھا : ” قوم کی اولاد سلطنت کا بیج ہے”۔یہی وہ کیاری ہے جہاں سے نئے پودے تیار ہو کر انسانی فکر و نظر کا انحطاط کرتے ہیں۔ اب تک ہم نے اسلام سے پہلے کے تمدنی اور مذہبی خیالات کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری مہذب دنیا کا سیاسی، معاشی اور تمدنی نظام ابتر ہو چکا تھا۔

ایک طرف تو دنیا اور مشاغل دنیا میں محویت کی یہ حالت تھی کہ عیش و عشرت ایک فن لطیف بن گیا تھا اور مال دار طبقوں کو زندگی کی دل فریبیوں میں نہ خدا یاد رہا تھا اور نہ روحانی فلاح و سعادت کا کوئی تصور ان کے ذہن میں باقی رہ گیا تھا۔

دوسری طرف غریب مفلوک الحال طبقوں کو زندگی میں جن مصائب اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس کا زمینی رد عمل ان پر یہ ہوا کہ وہ دنیا کو ایک لعنت سمجھنے لگے، زندگی اور تمدن کو نفرت و کراہت کی نظروں سے دیکھنے لگے اور روز بروزہ ترک دنیا اور لا حاصل ریاضات و مجاہدات کی طرف مائل ہوتے گئے ، لیکن یہ ساری خرابیاں فکری زوال کی پیداوار تھیں جو اس زمانے میں انسانیت پر طاری تھا۔ اس فکری انحطاط میں فلاطونی فلسفہ اور بعض مشرقی مذاہب ، مثلاً ہندو مت اور بدھ مت کے نظریات کا بڑا حصہ تھا۔ ان اثرات نے مل مل کر نوفلاطونی نظام فکر کو جنم دیا جو اس دور میں انسانی ذہن پر اتنا حاوی ہو گیا کہ مذہب عیسوی کی پوری تعلیمات اس کے رنگ میں رنگ گئیں ۔ یہ تمدن کش راہبانہ فلسفہ دنیا اور انسان کی حقیقت کا منکر تھا اور مراقبہ اور کشف کو ادراکِ حقیقت کا واحد ذریعہ قرار دیتا تھا، وجدان کو جو اس پر اور کشف والہام کو عقل پر ترجیح دیتا تھا۔ اس نے خدا کے ساتھ اتصال اور فنا فی اللہ کا ایک ایسا عمل نظریہ پیش کیا جس نے بڑے بڑے علماء، عقلا اور اعلی صلاحیت کے آدمیوں کو زندگی کی کش مکش اور تمدّن کی خدمت سے ہٹا کر تزکیہ نفس میں لگا دیا۔ اس فلسفے نے نہ صرف مسیحیت کو مسح نہیں کیا بلکہ زمانہ مابعد میں تہذیب و تمدّن کو بھی زندگی کی حرارت اور تعمیر کے ولولے سے خالی کر دیا۔ اس کی ابتدا کیوں کر ہوئی، اس کی توضیح کے لیے ملاحظہ ہو، فلسفہ ابن رشد مصنف محمد یونس صاحب فرنگی محلی صفحات ۲۴۷ اور ۲۷۸)الغرض، مذہب اسلام کے بارے یہ تصوّر اور خیال کہ مذہبِ اسلام نے انسان کی زندگی کے لئے کوئی رہنمائی نہیں کی اور انسان کو دنیا سے دور کیا نیز یہ کہ مذہب نے دنیاوی زندگی کو لعنت قرار دیا ہے، یہ سراسر غلط فہمی، مغالطہ اور بہتان تراشی ہے۔ جو مذہب اسلام کو دیگر مذاھب اور اسلام سے ماقبل رائج رجحانات پر قیاس کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور اسی سے مستعار یہ تصوّر کیا گیا ہے۔نوٹ : ہمارے ہاں جو تصوف و سلوک کا سلسلہ جاری ہے وہ قطعن وہ روش نہیں جو دیگر مذاھب میں رہبانیت کی صورت میں رائج تھا، بلکہ یہ قلبِ انسانی کو اللہ تعالیٰ کے قرب وجوار اور اپنے گناہوں کے احساس اور ان پر توبہ و رجوع کرنے کا ایک پاکیزہ سلسلہ ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے اور اصلاف سے جلتا آرہا ہے۔ (استفادہ از اسلام اور مذاہب عالم ص،۲۰۷ تا ۲۱۱ مع ترمیمِ یسیر)

متعلقہ فتاویٰ