سلسلہ سوالات و جوابات

عنوان: عبادت اور اسلامی احکام

سوال (4) روزہ رکھنے سے خدا کو کیا ملتا ہے، نیز انسان کو پورا دن بھوک میں رکھ کر یہ ظلم کیوں کیا جاتا ہے ؟

الجواب بتوفیقِ اللّٰه تعالیٰ

سائل کا سوال مخمصے پر مبنی ہے کہ روزہ رکھنے سے انسان کو کیا فائدہ پہنچتا ہے ماسوائے بھوک کے، اس سوال کے جواب میں ہم ایک روایت نقل کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ رکھا کرو تندرست رہا کروگے (طبرانی)

روزہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ازمائش ہے کہ کونسا بندہ اس کو احسن طریقے پر رکھ کر اپنے رب کی رضا کی سعادت حاصل کرتا ہے، کیونکہ روزے کے بدلے میں اللّٰہ تعالیٰ خود انعام سے نوازے گا جو آخرت میں کامیابی کی صورت میں ہو گا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ”اللّٰہ تعالیٰ ہی روزے کا بدلہ ہے، یعنی روزہ دار کو اللہ تعالیٰ مل جاتا ہے، جو اس کی راضی ہونے کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا حدیث جدید سائنس کی تصدیق کر رہی ہے۔
روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصاً ڈاکٹر مائیکل، ڈاکٹر جوزف، ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر، ڈاکٹر ایم کلائیو، ڈاکٹر جیکب ، ڈاکٹر ہنری ایڈور ڈاکٹر برام جے ، ڈاکٹر ایمرسن، ڈاکٹر خان سیمرٹ ، ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے۔

روزہ رکھنے سے ظاہر و باطن کی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں ( ڈاکٹر جوزف)
روزه روحانی امراض کا علاج ہے، یہ روح کو پاک و صاف رکھتا ہے (ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر )
روزہ گنا ہوں اور بیماریوں کو روکتا ہے۔ جذبات اور خیالات کو خراب ہونے سے روکتا ہے ( ڈاکٹر سی فرانڈ)
روزہ دل میں سکون و اطمینان پیدا کرتا ہے، اس سے قوت برداشت بڑھتی ہے اور سختیاں سہنے کی عادت پڑتی ہے ( ڈاکٹر برام جے ہنری)
سکون و اطمینان پیدا کرنے کے لیے روزہ بہترین چیز ہے (ڈاکٹر یمرٹ)
روزہ روح کی غذا ہے ( ڈاکٹر جیکب)
مہینے میں ایک دو بار روزہ رکھنا صحت کے لئے نفع بخش ہے ( ڈاکٹر ڈی جیکب)
فاقہ کی بہتریں چیز وہ روزہ ہے جو اہل اسلام کے طریقے سے رکھا جائے، ڈاکٹر جس طریقے سے فاقہ کراتے ہیں وہ غلط ہے ( ڈاکٹر ایمرسن)
پوپ ایلف گال ہالینڈ کے سب سے بڑے پادری گزرے ہیں روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں انہیں کچھ اور طریقہ بتاؤں لیکن میں نے یہ اصول وضع کر لیا ہے کہ ان میں وہ مریض جو لا علاج ہیں ان کو تین روز کے نہیں بلکہ ایک مہینہ تک روزے رکھوائے جائیں۔ میں نے شوگر ، دل کے امراض اور معدہ میں مبتلا مریضوں کو مستقل ایک مہینہ تک روزہ رکھوائے۔

شوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی ان کی شوگر کنٹرول ہو گئی ۔ دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہو گیا سب سے زیادہ افاقہ معدہ کے مریضوں کو ہوا۔

فارما کولوجی کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جیم نے روزے دار شخص کے معدے کی رطوبت لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا اس میں انہوں نے محسوس کیا کہ وہ غذائی متعفن اجزاء ( food particles septic) جس سے معدہ تیزی سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہیں ڈاکٹر لوتھر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے۔
مشہور ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کی صلاحیت پالیتا ہے روزہ دار کو جسمانی کھینچاؤ اور ذہنی تناؤ سے سامنا نہیں پڑتا۔

جرمنی امریکہ انگلینڈ کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے رمضان المبارک میں تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رمضان المبارک میں چونکہ مسلمان نماز زیادہ پڑھتے ہیں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہیں اس سے ناک کان گلے کے امراض بہت کم ہو جاتے ہیں کھانا کم کھاتے ہیں جس سے معدہ و جگر کے امراض کم ہو جاتے ہیں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لئے وہ اعصاب اور دل کے امراض میں بھی کم مبتلا ہوتا ہے
۔
سکندر اور ارسطو یونانی لیڈر اپنے فیلڈ کے ماہر ہیں، انہوں نے فاقہ اور پھر مسلسل فاقہ کو جسم کی توانائی کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔

سکندر اعظم کہتا ہے کہ میری زندگی مسلسل تجربات اور حوادث میں گزری ہے جو آدمی صبح و شام کھانے پر اکتفا کرتا ہے وہی ایسی زندگی گزار سکتا ہے جس میں کسی قسم کی لچک نہ ہو۔
لیکن کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ اسلام کا روزے کا تصور یونان سے لیا گیا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سکندر اعظم کا کوئی تعلق ثابت نہیں اور نہ ہی یونانی تصانیف عرب میں میسر تھیں۔

گاندھی جی کے فاقے مشہور ہیں ۔ فیروز راز نے گاندھی جی کی زندگی کے حالات میں یہ بات لکھی ہے کہ گاندھی جی روزے کے قائل تھے.

کہا کرتے تھے کہ انسان کھا کھا کر اپنے جسم کو سست کر لیتا ہے اور کاہل، کسل مند نہ دنیا کا اور نہ ہی مہاراج کا.
اگر تم جسم کو گرم اور متحرک رکھنا چاہتے ہو تو جسم کو کم از کم خوراک دو، اور روزے رکھو سارا دن چپ چاپ رہوں اور پھر شام کو بکری کے دودھ سے روزہ کھولو۔
روسی ماہر الابدان پروفیسر این کنکٹین اپنی طبوی عمر کے راز سے متعلق کہتے ہیں ” تین اصول زندگی میں اپنا لیے جائیں تو بدن کے زہریلے مواد خارج ہو کر بڑھا پا روٹ دیتے ہیں ، اول خوب محنت کیا کرو۔۔۔ دوم کافی ورزش کیا کرو بالخصوص زیادہ چلنا پھرنا چاہئے، سوم غذا جو تم پسند کرتے ہو کھایا کرو لیکن ہر مہینہ میں کم از کم ایک مرتبہ فاقہ ضرور کیا کرو۔”

امریکہ میں ڈاکٹر ہر برٹ ایم شلٹن نے ایک کتاب تحریر کی ہے جس کا موضوع ہے ” روزہ تمہاری زندگی کو نجات دے سکتا ہے ” اس امریکی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ روزوں کے ذریعے موٹاپے ، میگرین ، الرجی ، بلڈ پریشر اور جوڑوں کے درد غیرہ نیز جلد کی بہت سی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں روزے کو ایسا آپریشن قرار دیا گیا ہے جو چیر نے پھاڑنے والے آلات استعمال کٹ نے بغیر ہی کیا جاتا ہے۔

فرانس کے محقق اور فیر یالوجسٹ ڈاکٹر الکسیس کارل کا کہنا ہے کہ روزے کی حالت میں اپنے نفس پر قابو پانے کی کوشش کے ذریعے بدن کے اعمال میں توازن قائم کیا جاسکتا ہے۔ سب لوگ فطری طور پر اپنے غرائز کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان خواہشات کی مکمل طور پر تحمیل نہ ہو توانسان زوال و انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے نے انسان کو اپنے نفس پر تسلط حاصل کرنا چاہئے۔ اس میں شک نہیں کہ ضرورت سے زیادہ سونا اور کھانا کم کھانے کی نسبت زیادہ نقصان دہ ہے اور ان امور سے اپنے آپ کو بچا کر بدن اور روح کے اعمال کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے۔

العربیہ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے جلدی امور کے ماہر ڈاکٹر الصغیر نے کہا کہ انسانی جسم کو کولاجین بے رنگ پروٹین جس میں زیادہ تر گلائی سین، ہائیڈراکسی پروٹین اور پر دولین پائی جاتی ہے۔ جسم کی تمام اتصالی بافتوں میں ہوتی Tendons اور جوڑ بندھن یعنی Cartilage میں خصوصاً جلد، کری ہڈی یا Comnective Tissues ہے [ اور الاسٹن کے پھیلاؤ کی ضرورت ہوتی ہے اور روزہ اس میں مدد دیتا ہے۔

پروفیسر مور پالڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کی پہچان ہے۔ انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولا دیا ہے۔ اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف یہی روزے کا فارمولا ہی دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی۔

میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہئے پھر میں نے روزے مسلمانوں کی طرز پر رکھنا شروع کر دیے، میں عرصہ دراز سے معدے کے ورم (stomach inflammation) میں مبتلا تھا ۔ کچھ دنوں کے بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی پھر میں نے جسم میں کچھ اؤر تبدیلی بھی محسوس کی اور کچھ ہی عرصے بعد میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا۔ حتی کہ میں نے ایک ماہ کے بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی۔
ڈاکٹر شاہد اطہر (Shahid Athar) جو کہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی انڈیانا یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں وہ فوائد رمضان کے متعلق اپنے ایک آرٹیکل The Spiritual and Health” : میں لکھتے ہیں کہ Benefits of Ramadan Fasting”
روزه ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو نرم مزاج اعتدال پسند اور مثالی غنا چاہتے ہیں۔

1994ء میں ایک بین الاقوامی کانفرنس "رمضان اور صحت ” جو کہ کاسا بلانکہ میں منعقد ہوئی ۔ اس میں طبی حوالے سے روزے کی وسعت و پھیلاؤ کے بارے میں 50 اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی۔ جس سے نظام طب کے حوالے سے بہت سے اچھے اثرات سامنے آئے حتیٰ کہ یہ چیز بھی سامنے آئی ہے کہ روزہ مریضوں کے لیے کسی بھی طریقے سے نقصان دہ نہیں ہے۔ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ اس میں سکون اور صبر و تحمل کا درس لیتے ہیں۔ روزہ کی حالت میں انسان کی نفسانی بیماریاں کم ہو جاتی ہیں اور انسان کئی اور دوسرے جرموں سے بچ جاتا ہے۔ ”

جدید ترین تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تین دن روزہ رکھنے سے مدافعتی نظام مکمل بحال ہو جاتا ہے
تین دن تک روزے رکھنے سے جسم کو جس قدر فائدہ پہنچتا ہے وہ جسم کو پہنچنے والے نقصان سے بہت کم ہے۔ ایک بڑی مثبت تبدیلی یہ ہے کہ اسٹیم سیلز ایک ایسا عمل شروع کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جسم میں خون کے سفید خلیے بنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ خون میں سفید خلیے انفیکشن سے لڑنے میں خاصی مدد دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلی فورنیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھوکا رہنے سے متعلق تازہ ترین تحقیق سے اُن افراد کو خاص طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے جن کا مدافعتی نظام شدید متاثر ہو چکا ہے۔ بالخصوص کینسر کے وہ مریض اس تحقیق سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں کیمو تھیراپی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلی فورنیا میں جیر و ننولوجی اور بایولوجیکل ریسرچ کے پروفیسر والٹر لونگو کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص روزہ رکھتا ہے یعنی دن بھر بھوکا رہتا ہے تو جسم میں اسٹیم سیلز اپنا کام شروع کرتے ہیں یعنی مدافعتی نظام کی بحالی شروع ہو جاتی ہے۔ مدافعتی نظام کے جو حصے ناکارہ ہو کر جسم پر بوجھ بن چکے ہوتے ہیں، وہ روزے کے دوران جسم سے خارج ہوتے جاتے ہیں۔ گویا روزہ رکھنا جسم کو نئی زندگی دینے جیسا ہے۔ بڑھاپے یا کیمو تھیراپی کے باعث جسم کے جو خلیے ناکارہ ہو چکے ہوتے ہیں، وہ روزے کے دوران جسم سے یوں نکلتے ہیں کہ پورا مدافعتی نظام بحال ہوتا جاتا ہے۔ طویل مدت تک روزے رکھنے سے جسم ذخیرہ شدہ گلو کوز اور چربی استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس دوران خون میں سفید خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی شروع ہو جاتی ہے مگر خیر دوسری طرف اسٹیم سیلز مدافعتی نظام کو بھر پور تحریک فراہم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جسم کا مدافعتی نظام بحالی کی طرف آتا جاتا ہے۔

رضا کاروں کو چھ ماہ کے دوران وقفے وقفے سے دو سے چار دن کے روزے رکھنے کو کہا گیا۔ اس دوران اُن کے جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھی باقاعدگی سے جائزہ لیا گیا تا کہ اندازہ لگایا جاسکے کہ بھوکا رہنے سے جسم میں کونسی اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

ماہرین نے دیکھا کہ طویل روزے رکھنے سے جسم میں پی کے اے انزائم کے بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ یہ انزائم بڑھاپے کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ کینسر اور رسولی کے حوالے سے بھی نقصان دہ ہے۔ لونگو کہتے ہیں کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ طویل روزے رکھنے سے جسم کو کس حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے، بالخصوص اسٹیم سیلز کے حوالے سے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزے کی حالت میں انسانی جسم میں ایسی مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو توانائی بر قرار رکھنے اور بہتر زندگی بسر کرنے کے قابل بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ جب ہم بھوکے رہتے ہیں تو جسم توانائی کو ذخیرہ کرتا ہے اور مدافعتی نظام کے اُن تمام خلیوں کو ری سائیکل کرتا ہے جو ناکارہ ہو کر جسم پر بوجھ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔

پروفیسر لونگو کہتے ہیں کہ اس بات کے معمولی سے بھی شواہد نہیں ملے کہ روزے کی حالت میں جسم کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ جسم کو فائدہ ضرور پہنچتا ہے۔ تحقیق اور تجزیے سے معلوم ہوا کہ طویل روزے رکھنے سے جسم میں خون کے سفید خلیوں کی تعداد گھٹ گئی اور جب دوبارہ کھانا شروع کیا گیا تو یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔ کینسر کے مریض بھی طویل روزے رکھ کر کیمو تھیراپی کے شدید منفی اثرات سے بہت حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اؤر بھی بہت سے سائنسی اور ماہرین کے بیانات کے شواہد موجود ہیں جو روزے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ لیکن طوالت کی وجہ سے بیان نہیں کیا جاسکتا ۔

         

متعلقہ فتاویٰ