شادی اور عیدین کے احکام
شادی اور عیدین کے احکام
سوال
عصر حاضر میں شادی اور عیدین کے رسومات کی شریعت کی نظر میں کیا حیثیت ہے؟ نیز شادی اور عیدین کے شرعی احکام کیا ہیں؟مفصل اور مدلل جواب ارسال
کر کے مستفید و مشکور فرمائیں۔
الجواب
۔آج کل شادی کے موقع پر جن رسموں کااہتمام کیا جاتا ہے ان سے اجتناب ضروری ہے،ان رسموں پر ہونے والے بے تحاشا خرچوں نے نکاح جیسی عظیم سنت کو متوسط اور غریب مسلمانوں کی پہنچ سے دور کردیا ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا:اس نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو،نیز صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین انتہائی سادگی کے ساتھ شادی کرتے تھے حتی کے بسا اوقات صحابہ میں سے کسی کی شادی ہوجاتی تھی لیکن حضور علیہ السلام تک کو اس کا علم نہ ہوتا تھا،خود آپ علیہ السلام نے اپنے نکاح اور ان کے ولیمے انتہائی سادگی سے کیے۔
لہٰذا شادی انتہائی سادگی سے ہونی چاہیے،اور فضول رسموں سے اجتناب کرنا چاہیے،نکاح مسجد میں ہونا چاہیے،نکاح کے بعد لڑکی والے خود لڑکی کو لڑکے کے گھر پہنچا دے یا لڑکا چند آدمیوں کے ساتھ جا کر لڑکی کو رخصت کرا لائے،باقاعدہ بارات لے جانا بھی ضروری نہیں۔شب عروسی کے اگلے دن ولیمہ کردیا جائے جس میں لڑکا اپنی حیثیت کے مطابق دوست ،احباب اور اعزا کو مدعو کرے۔
۔ اسلام نےعیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو خوشیاں منانے کی اجازت دی ہے ۔حضور علیہ السلام جب مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائیں تو آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں دو دن تہوار مناتے ہیں،تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:”اللہ تعالی نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے اچھے دو دن عطا فرمائے ہیں اور وہ دو دن عید الفطر اور عید الاضحی ہیں”۔
عیدین کے موقع پر بھی فضول رسموں سے اجتناب کرنا چاہیے اور شریعت نے ان دنوں میں جو احکام دیے ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے۔
عیدین کے اعمال
: عید کے دن درج ذیل اعمال مسنون و مستحب ہیں
مسواک کرنا،غسل کرنا،کپڑے نئے ہو تو بہتر ورنہ دھلے ہوئے پہننا،خوشبو لگانا،نماز عید الفطر سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا،عیدگاہ پیدل جانا،ایک راستے سے جانا اور دوسرے سے واپس آنا،عید الفطر کی نماز سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا،عیدالاضحی کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا،نماز عید کے لیے تکبیرات تشریق کہتے ہوئے جانا(عیدالفطر میں آہستہ،عیدالاضحی میں بلند آواز سے)،عیدین کی نماز کسی بڑے میدان میں ادا کرنا(اگر بڑے میدان سہولت سے میسر ہو)۔
عن عائشة قال النبي صلى الله عليه وسلم: ” إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة "
(شعب الإيمان :8/ 502)
عن أنس رضي الله عنه، قال: رأى النبي صلى الله عليه وسلم على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة، فقال: «مهيم، أو مه» قال: قال: تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب، فقال: «بارك الله لك، أولم ولو بشاة»(صحيح البخاري :8/ 82)
عن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال لأبي طلحة: «التمس غلاما من غلمانكم يخدمني حتى أخرج إلى خيبر» فخرج بي أبو طلحة مردفي، وأنا غلام راهقت الحلم، فكنت أخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا نزل، فكنت أسمعه كثيرا يقول: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والبخل والجبن، وضلع الدين، وغلبة الرجال»ثم قدمنا خيبر فلما فتح الله عليه الحصن، ذكر له جمال صفية بنت حيي بن أخطب، وقد قتل زوجها، وكانت عروسا، فاصطفاها رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه، فخرج بها حتى بلغنا سد الصهباء، حلت فبنى بها، ثم صنع حيسا في نطع صغير، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «آذن من حولك». فكانت تلك وليمة رسول الله صلى الله عليه وسلم على صفية……..الخ. (صحيح البخاري:4/ 36)
” ويستحب في يوم الفطر أن يطعم قبل الخروج إلى المصلى ويغتسل ويستاك ويتطيب ” لما روي أنه صلى الله عليه وسلم كان يطعم في يوم الفطر قبل أن يخرج إلى المصلى وكان يغتسل في العيدين ولأنه يوم اجتماع فيسن فيه الغسل والطيب كما في الجمعة.لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان له جبة فنك أو صوف يلبسها في الأعياد ” ويؤدي صدقة الفطر ” إغناء للفقير ليتفرغ قلبه للصلاة ” ويتوجه إلى المصلى ولا يكبر عند أبي حنيفة رحمه الله في طريق المصلى
وعندهما يكبر .( الهداية :1/ 84)
