سابقہ طلاق نامہ دکھانے سے مزید طلاق نہیں ہوتی
تنقیح سوال
سائل نے دو شادیاں کی ہیں،پہلی والدین کی رضامندی سے دوسری شادی والدین اور پہلی بیوی سے خفیہ طور پر،پھر دوسری بیوی سے کسی مسئلہ میں تکرارپر دوسری بیوی نے پہلی بیوی کو فون پرشادی کی خبر دی جس سے جھگڑا پیدا ہوا اور سائل نے دوسری بیوی کوگھربھیجااوراطلاع دیےبغیراس کو اسٹام پیپر پر ایک طلاق دی،سائل ایک مہینے کے بعداپنے کیے پر نادم ہواتو بیوی سے ملاقات کرکے طلاق کا بتایا اور پھر دونوں نے باہمی رضامندی سے رجوع کیا،پھر سائل نے پہلی بیوی کےوالدین کی جانب سے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیےدوسری بیوی کو بتائے بغیر یونین کونسل سے طلاق نامہ بنوایا،سات مہینے بعد پھر دوسری بیوی سے پہلی بیوی کے معاملے میں جھگڑا ہواتو دوبارہ دوسری بیوی نے پہلی بیوی کو فون پر اطلاع دی کہ وہ سائل کے پاس ہے جس پر پہلی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی تو سائل نے دوسری بیوی کو بھی گھر بھیجا-اس کے بعد سائل نے معاملہ رفع کرنے کے لیے پہلی بیوی کے والدین اور دوسری بیوی کے بہنوئی کو وہ طلاق نامہ دکھا کر یہ کہا کہ ان دونوں (سائل اور دوسری بیوی)کے درمیان کوئی تعلق نہیں جس کے بعد پہلی بیوی اس کے پاس آئی اور دوسری بیوی کے رشتہ داروں نے بھی یہ سمجھا کہ اس کو طلاق ہو گئی ہے تو اس کی شادی کہیں اور کروادی-سائل کو کچھ عرصہ بعدرابطہ کرنے پر اس شادی کا علم ہوا تو اس نے اپنی دوسری بیوی سے کہا کہ میں تو تجھے طلاق دی ہی نہیں تھی وہ طلاق نامہ تو میں نے جھگڑے سے جان چھڑانے کے لیے دکھایا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ دوسری بیوی کا دوسری جگہ نکاح ہوا یا نہیں؟اگر نہیں ہوا تو سائل کے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب
سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق سائل نےاپنی دوسری بیوی کو ایک طلاق رجعی دی اور اس کا طلاق نامہ بنوایا پھراس طلاق سے رجوع کرلیا، بعدمیں محض جھگڑے سے بچنے کے لیےسابقہ طلاق کا طلاق نامہ دکھاکر یہ کہا کہ ان دونوں (سائل اور دوسری بیوی)کے درمیان کوئی تعلق نہیں ،یہ جملہ کنائی طلاق کی جھوٹی خبر ہے اور طلاق کی جھوٹی خبر سے دیانۃ طلاق واقع نہیں ہوتی، اس لیے یہ دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی، اس کی بیوی بدستور اس کے نکاح میں ہے،دوسری جگہ اس کا نکاح درست نہیں -جب تک پہلے شوہر سے طلاق یا خلع ہو کر عدت نہیں گزرجاتی دوسری جگہ نکاح جائز نہیں۔
چونکہ عورت ابھی تک سائل کے نکاح میں ہے،اس لیے اب سائل کو اختیار ہے چاہے تو اس عورت کو اپنے نکاح میں برقرار رکھ کر اپنے پاس لے آئے یا اس کوطلاق دے کر چھوڑدے
یاد رہے کہ سائل اگر اپنی بیوی کو لے کر آئے گا تو بیوی پہلے دوسرے شوہر کے ساتھ ہونے والے نکاح فاسد کی عدت پوری کریگی اس کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت ہوگی
اگر سائل طلاق دیگا تو طلاق کے بعد عورت از سرنو عدت گزارے۔ عدت کے بعد جہاں چاہے نکاح کرلے۔
وأما ما في إكراه الخانية: لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع، كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا فقال في البحر، وإن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا. اهـ.
(رد المحتارمع الدر المختار:3/ 238)
وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة.
(البحر الرائق:3/ 264)
(ولو) كان الزوج (مكرها) على إنشاء لفظ الطلاق لكنه لا يصير فارا فلا ترث منه كما في (القنية) وإنما وقع لما صححه الحاكم: (ثلاث جدهن جد وهزلهن جد الطلاق والعتاق واليمين) ولا خلاف أنه لو أكره على الإقرار به لا يقع كذا في غير كتاب, يعني قضاء وديانة بخلاف ما لو أقر به وادعى أنه كان هازلا أو كاذبا حيث يقع قضاء إلا إذا أشهد قبل ذلك لزوال التهمة به كما في القنية.
(النهر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 317)
ولو قال في شيء من هذه الألفاظ من قوله: أعتقتك أو نحوه؛ عنيت به الخبر كذبا لا يصدق في القضاء لعدوله عن الظاهر؛ لأنه يستعمل في إنشاء العتق في عرف اللغة والشرع كما يستعمل في الإخبار فإن العرب قبل ورود الشرع كانوا يعتقون عبيدهم بهذه الصيغة وفي الحمل على الخبر حمل على الكذب، وظاهر حال العاقل بخلافه فلا يصدق في القضاء كما لو قال لامرأته: طلقتك ونوى به الإخبار كذبا لا يصدق في القضاء ويصدق به فيما بينه وبين الله عز وجل؛ لأنه نوى ما يحتمله كلامه؛ لأنه يحتمل الإخبار وإن كان إرادته الخبر خلاف الظاهر، ولو قال: عنيت به أنه كان خبرا فإن كان موكدا لا يصدق أصلا؛ لأنه كذب محض وإن كان إنشاء لا يصدق قضاء؛ لأن الظاهر إرادة الإنشاء من هذه الألفاظ فلا يصدق في العدول عن الظاهر ويصدق ديانة؛ لأن اللفظ يحتمل الإخبار عن الماضي. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 46)
