سوال (5) جدت پسند حضرات کا اسلامی احکام کے متعلق مغالطاتِ تصورّ:
مغالطہ: احکامِ شرعیہ میں عللِ غائیہ اپنی رائے سے تراش کرکے ان کے وجود اورعدم پر احکام کے وجود و عدم کو دائر سمجھنا ۔
الجواب بتوفیقِ اللّٰه تعالیٰ
اجمالی:
… ازالہ مغالطہ: اگر احکام کے عللِ غائیہ (وہ وجہ جس کے باعث احکام نازل ہوئے ہیں) کے وجود و عدم ( موجود اور نہ ہونے ) پر احکام کے وجود و عدم کو دائر سمجھا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ احکامِ منصوصہ( جو نصوص قرآن و سنت سے ثابت ہیں) میں تصرّف ( دخل اندازی ) کرنے پر آمادہ ہونا پڑےگا۔
چنانچہ ان کے ہاں( جو لوگ ایسا کرتے ہیں بالخصوص روشن خیال و جدت پسند) بعض کی نسبت مسموع ہوا کہ انہوں نے وضو کی علت غائیہ تنظیف محض( بدن کی صفائی ) سمجھ کر جب اپنے اپ کو نظیف ( صاف ) دیھکا تو وضو کی حاجت نہ سمجھی اور بے وضو نماز شروع کی، کہ وضو سے مقصود تنظیف یعنی صفائی ہے جو پہلے سے موجود ہے تو وضو کرنے کی حاجت نہ رہی، اور بعض نے نماز کی علت غائی ہے تہذیب اخلاق ( اخلاق کی درستگی ) سمجھ کر اس کے حصول کو مخصوص سمجھا اور نماز کو ترک کیا۔
اسی طرح روزہ، زکوٰۃ اور حج میں تصرفات ( دخل اندازی) کرکے ان سے مقصود تمدنی فوائد قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح نواہی یعنی شریعت کی ممنوعات مثلاً سود وغیرہ احکام میں تبدیلی اور تصرف کیا۔ اور تمام شریعت کو باطل اور بیکار کر دیا ۔
تفصیلی: … احکامی دینیہ کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔ کہ احکامِ دینیہ سے مقصود بالذات صرف دنیا کے مصالح ہیں ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کو اس بات کا انکار نہیں کہ ان سے بعض مرتبہ دنیاوی مصالح بھی حاصل ہو جاتے ہیں، لیکن وہ ان کے لیے موضوع تو نہیں ہے۔ یعنی احکام دینیہ سے اگر دنیاوی کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے تو یہ اس عمل کی برکت تو ہے لیکن یہ نہیں ہے کہ یہ عمل اس فائدے کے لیے ہی اللہ تعالی نے وضع کیا ہے۔
مثلاً نماز بجماعت اصل میں تو موضوع ہے عبادت کے لیے لیکن اس سے بہت سے دنیاوی مصالح بھی متعلق ہوتے ہیں ،اور وہ یہ ہے کہ جب سب لوگ مل کر ایک جگہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں تو ان میں اتفاق پیدا ہوتا ہے ،لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ نماز کی جماعت کے ساتھ ادائگی کا حکم اتفاق کے لیے ہی ہے۔ بلکہ یہ سنت مؤکدہ ایک الگ عمل ہے جس کا قوم کی اتفاق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
اگر دنیاوی مصلحتوں پر احکام شرعیہ کا مدار رکھا جائے تو پھر ہمیشہ کے لیے احکام کو بدلنا چاہیے کیونکہ حکمت کسی متعین چیز میں منحصر نہیں ہے بلکہ حکمت کبھی ایک چیز میں ہوتی ہے اور کبھی دوسرے چیز میں۔
رہا مقصود کے علاوہ تو وہ الگ چیز ہے۔
مثلاً کوئی حج کے لیے پاکستان سے جا رہا ہے تو وہ راستے میں جہاز میں جو نظارہ کر رہا ہے سمندر وغیرہ کا یہ صرف ایک لطف کے لیے ہوتا ہے اور مقصود سے خالی ہوتا ہے کیونکہ حج سے مقصود عبادت ہے اور حج میں طواف اور وقوف عرفہ اصل مقصود ہوتے ہیں اور اس کو عبادت ہی سمجھا جاتا ہے ۔
علتوں کا مقصود ہونا: اور اصل بات یہ ہے کہ اس علت تراشنے کا الحاد ہونا تو ظاہر ہے کیونکہ خود اس تقریر کا جو مقدمات ہے وہ بھی دلیل ہے کیونکہ یہ بات ممکن ہے کہ کئی احکام تعبّدی ہوں اور ان کے اصل صرف ان پر عمل کرنا ہی ہوتا ہے اور ان کا غرض صرف امتثالِ امر یعنی حکم کو بجا لانا ہی ہو اور ان میں بندوں کے لیے ازمائش ہو، کہ کون ان پر عمل کرتا ہے اور کون ان میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں، ان کی غایت کا علم 100 فیصد نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ وہ غایات ایسے آثار ہو جو ان احکام کی صورت نوعیہ ہی پر مرتب ہوں۔
مثلاً بعض دوائیا مؤثر بالخاصیہ ہوتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ هيئت كذائيہ کے ساتھ وہی صورت ہو تب فائدہ مرتب ہوگا ان میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس جیسے دوسری چیز سے بھی فائدہ ہو جائے۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کے سمجھ میں کچھ آجائے اور کسی کے سمجھ میں کچھ ۔
تو ایک رائے کو دوسری رائی پر ترجیح دینا لازم آئے گا کہ یہ رائے درست ہے اور یہ رائے درست نہیں۔ حالانکہ کسی کی رائے کے درست یا غلط ہونے پر کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے اور یہ قائدہ مسلم ہے کہ” اذا تعارض تساقطا” اگر ان دونوں کو ساقت کیا جائے تو اس صورت میں تمام احکام ہی منہدم ہو جائیں گے اور فنا ہو جائیں گے ۔ تو کیا کوئی عاقل اس بات کو درست سمجھتا ہے اور حال یہ ہو کہ وہ ملت کا اعتقاد رکھتا ہو۔
علتوں کی تراشنے میں طلاقی خرابیاں :
اسی غلطی کے شعبوں میں ایک یہ بھی ہے کہ مخالف مذہب کے مقابلے میں علّت کو تراش کر احکامِ فرعیہ کو ثابت کیا جائے۔
تو اس میں بڑی خرابی یہ نکل آئیگی کہ علّت تو تخمینی طور پر ہوا کرتی ہے اگر ان میں کوئی خدشہ آجائے تو اصل حکم مخدوش و بیکار ہو جائے گا۔ اس صورت میں مخالفین کو احکام کے بارے میں اس بات کہنے کا موقع مل جائے گا کہ احکام اصلی مقصود نہیں ہے۔
یہ ان کو ایک طرف سے بڑی گنجائش کا موقع فراہم کرنا ہے ، یہ بات ظاہر ہے کہ یہ قانون ہے اور قانون اور ضابطے میں اسرار اور حکمت نہیں ڈھونڈی جاتی اور نہ ایسے اصرار اور حکمتوں کے بنیاد پر قانون میں تبدیلی اور تغیر کا اختیار حاصل ہوتا ہے ۔ جو اصل میں گمان اور خیال پر مبنی ہوتی ہیں۔
البتہ خود بانی قانون کو یہ حق حاصل ہے اور اگر کسی کے ذہن میں اس بیان سے یہ خیال آئے یا سوال پیدا ہو جائے، کہ جب علت نکالنے سے یہ خرابیاں لازم آتی ہے تو پھر مجتہدین نے علتیں کیوں نکالی؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مجتہدین نے جو علت نکالی ہے ان کی دو وجوہات ہیں (1) اول تو یہ شرط لگائی گئی ہے جہاں شریعت میں جن جزیات کا حکم صراحت کے ساتھ مذکور نہیں ہو ان میں تعدیہ حکم علت کے واسطے سے شرعی حکم کی ضرورت ہوتی ہے ۔
(2) دوسری وجہ ان حضرات کا اس کام کا سلیقہ تھا جس کی بنا پر وہ علتیں نکالتے تھے اور اس زمانے میں یعنی یہاں دونوں امور مفقود ہیں اور کم علمی کے بنا پر یعنی ضرورت کا ادراک اور تعدیہ کا صلیقہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام نہیں کیا جا سکتا یعنی خواہشات کی پیروی بڑا حاجب و مانع ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ نہ معلوم کرنے کا طریقہ موجود ہے اور نہ ضرورت شرعی ہے محض غرض پرستی پیش نظر ہے۔
اس کا بیان انتباہات میں حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمت اللہ علیہ نے ساتویں انتباہ میں جو متعلق قیاس کے ہے تحت کیا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالی نے احکامات میں مصلحتیں ضرور رکھی ہے کہ انسان اپنی کاہلی کی وجہ سے احکام کے پورا کرنے میں نامراد نہ ہو جائے ، اور ان کو بالکل ترک نہ کر دے۔ اس وجہ سے مصلحت بیان کی جاتی ہے۔ لیکن اس کا اصل مقصد یہ نہیں کہ خواہ مخواہ وہی مصلحتوں کا حصول مقصود ہو، کیوں کہ احکام کی علت غائیہ اؤر چیز ہے اور مصلحت اؤر چیز یہ دونوں الفاظ عربی کا ہے لیکن آج کل کے اصحاب عربی سے وقفیت کم رکھتے ہیں اس وجہ سے وہ ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کر سکتے ۔
(1) علت (2) غایت- علت کا ترجمہ سبب اور غایت کا ترجمہ غرض کا ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ علت پر کسی کام کی بنا ہوا کرتی ہے اگر وہ فوت ہو جائے تو وہ کام بھی بیکار ہو جائے گا ۔
اور مصلحت پر کسی کام کی بنا نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک امرِ زائد ہوتا ہے جس پر حکم مشتمل ہوتا ہے۔ اگر وہ حاصل ہو جائے تو فبھا ورنہ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
اس کی وضاحت ایک مثال سے ہو سکتی ہے ، کہ ایک کاروباری آدمی جو مثلاً اسلام آباد سے کراچی کو کسی تجارتی غرض سے آرہا ہے تو سفر کی علت غائی مال کو بیچنا ہے اب اگر راستے میں خوبصورت منازل اور جگہوں کا نظارہ آتا ہے جو بے انتہائی سرسبز و شاداب اور خوبصورت ہو اور اس کی یہ غرض نہیں بلکہ یہ تو صرف زاید اشیاء ہیں جن کے وجود خود بخود بغیر کسی ارادے کے سامنے آتے ہیں۔ اب اگر اس تاجر کو معلوم ہو جائے کہ میں جہاں جا رہا ہوں مثلاً کراچی وہاں پر میرا مال نہیں نکل سکتا یعنی نہیں بک سکتا اور فائدہ نہیں ہو سکتا۔ تو کیا وہ صرف اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سفر کرے گا کہ راستے میں خوبصورت جگہوں کا نظارہ مل جائے، بالکل بے اصل اور بے وقوفی والی بات ہے۔
اور اگر اس کے برعکس اس کو یہ علم ہو جائے کہ راستے میں بہت ہی مشکلات سامنے آسکتی ہے مثلاً گرمی وغیرہ لیکن ساتھ یہ اطلاع بھی ہو کہ وہاں پر جاکر مال اچھے طریقے سے بک سکتا ہے کیونکہ اس کا اصل مقصد اپنے سامان کو اعلی دام پر بیچنا ہے اور اس کے لیے وہ سفر کی تھکاوٹ وغیرہ سب کچھ برداشت کر سکتا ہے ۔
کیونکہ یہ صرف ایک عارضی چیزیں ہیں اور اصل مقصد اس کا اپنا فائدہ یعنی مال کو اچھے دام پر بیچنا ہے۔ یہ ماہیت اور علّت ہوئی علت غائی اور مصلحت کی –
تو جب ان مثالوں کے ذریعے سے علت اور مصلحت دونوں میں فرق معلوم ہوا تو اب اس مثال کو اچھی طرح مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں کا حکم معلوم کرنا چاہیے کہ وہ حکم کیا ہے؟
اور وہ حکم یہ ہے کہ کسی ادنی سہ فاعل کے کام میں بھی دوسرے شخص کو خواہ وہ اس سے بڑا ہو یا اس کے برابر ہوعلت غائی تجویز کرنے کا حق حاصل نہیں۔
کیونکہ اس کو اصل بات کا قطعی علم نہیں ہے کہ فاعل کا جو فعل ہے اس کا غرض جس پر کام کی بنا ہے یہی ہے۔
اور ظاہر بات ہے کہ یہ کوئی قطعی نہیں اگرچہ قرینہ بھی اسی مصلحت پر قائم ہو پھر بھی یہ ظن ہی کے درجے میں ہے اگرچہ کسی اور کے فعل کے مصلحت کو سمجھنا ممکن ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس فعل سے فلاں مصلحت معلوم ہوتی ہے تو فاعل نے اسی مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے کام کیا ہوگا یہ بات کیا یقینی اور قطعی ہے ؟ بالکل نہیں۔
اب جب ایک ادنیٰ فاعل کے فعل کی مصلحت پر فاعل کی فعل کا دارومدار اپنی طرف سے بنانا درست نہیں تو چھوٹے کو بڑے کے کسی کام میں اس تجویز کا حق کیسے ہوگا اور جاہل عالم کے مقابلے میں اور محکوم حاکم کے مقابلے میں تجویز کیسے کر سکتا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔
یہ تو انسان ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ معاملے کا ذکر ہے تو جب انسانوں میں سے ایک کےدوسرے کے کسی فعل کی مصلحت پر اس کا دارومدار نہیں ہو سکتا تو بندہ اور خدا کے درمیان کیا معاملہ ہونا چاہیے؟
کیونکہ بندہ عاجز ہے اور خدا تعالیٰ قادر مطلق عالم الغیب مالکِ مطلق ہے تو ہم نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی کون سی عقل ہے جس نے بندے کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ حق تعالیٰ شانہ کی کسی فعل کی غائت تجویز کرے اور اس پر ایسا اطمینان کرے کہ حق تعالی کی کسی حکم کے اس پر بنا کرے نعوذ باللہ؟
غرض ایسا کرنا بندے کا بندگی سے خارج ہوکر الوہیت کا دعوی کرنا ہے جس کو کوئی بھی جائز نہیں سمجھ سکتا اور مسلمانوں کا تو خدا تعالیٰ سے صرف الوہیت اور معبودیت کا حق نہیں بلکہ محبت اور محبوبیت کا بھی تعلق ہے اور یہ تعلق ایسا ہے کہ دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کیونکہ یہی اصل محبت اور عشق ہے اور اس میں حکمِ الہی کے سامنے سر خم تسلیم کرنا ہی اصل اور مغز ہے ۔
تو سابق تقریر سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کسی کا کسی دوسرے کے کام کی علت غائی بلا اس کے بیان کے تجویز کرنا درست نہیں چھ جائے کے مسلمان اللّٰه تعالیٰ کی احکام کی علت غائی تجویز کرے یہ کس قدر جرات و بے باکی ہے بلکہ یہ طرز و طریقہ اسلام کے خلاف ہے اصل حکم کی علت تو صرف امرِ الہی ہی ہے ۔
خلاصہ یہ کہ تمام احکام کے لیے اصل علت امرِ الٰہی ہے اور احکام میں مصلحت ہوتی ہے لیکن ان پر احکام کا دارومدار نہیں ہوتا
( استفادہ از "اسلام اور عقلیات”
