بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الحاد ، دہریت ، مغربیت اور محنت کا میدان

بظاہر یہ عنوانات یکساں دکھائی دیتے ہیں گو کہ ان میں ایک مستقل ربط اور تعلق موجود ہے اور یہ تینوں حلقے ایک دوسرے سے نکلتے ہیں لیکن جب ہم اکیڈمک سطح پر یا عملی میدان میں ان کے حوالے سے کوئی مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ مستقل عنوانات ہیں ان کو الگ الگ شعبہ جات کے طور پر ہی لیا جانا چاہیے اور ان دائروں کے متکلمین و ماہرین بھی الگ الگ استعداد کے ہوں گے۔
سب سے پہلے تو ہم ان عنوانات کی بنیادی تفہیم سے آگاہی حاصل کرتے ہیں تاکہ اس کے بعد ان دائروں کے ماہرین کی تیاری اور اس تیاری کے لیے ضروری لوازمات حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
پہلا عنوان ہے الحاد : الحاد کا لغوی یا اصطلاحی معنی راستے سے ہٹ جانا یا انحراف ہے موجودہ دور میں اسے دہریت یعنی atheism کے مترادف سمجھا جاتا ہے لیکن اصولی اعتبار سے ہر دو میں جوہری فرق ہے شریعت کی نگاہ میں الحاد ضروریات دین کا انکار ہے اگر کوئی عقائد و عبادات کی اس بنیادی روایت سے جو ہمیں تواتر سے ملی ہے اس روایت کا انکاری ہے تو وہ ملحد شمار ہوگا۔
دوسرا عنوان ہے دہریت : دہریت درحقیقت atheism ہے یعنی خدا کا انکار یا خدا اور مذہب کا انکار اگر اس عنوان کی مزید وضاحت کی جائے تو عقل پرستی اور مادیت کی بنیاد پر مابعد الطبیعیات کا انکار دہریت ہے۔
تیسرا عنوان ہے مغربیت : مغربیت کے دو بنیادی دائرے ہیں اول فلسفہ مغرب ، دوم تہذیب مغرب اس سے مراد موجودہ دور میں اس عالمگیری نظریے اور ثقافت کا غلبہ ہے جو بحیثیت مجموعی مذہب کے انکار کی طرف لے جاتی ہے۔
۱. الحاد کا دائرہ اور اس کے مقابل محنت کا میدان
الحاد کا دائرہ بہت وسیع ہے چونکہ یہ فکر بنیادی سطح پر مذہب سے متعلق اشکالات پیدا کرتی ہے اور اس سے انحراف کی راہ ہموار کرتی ہے اس لیے اس کے متعدد رخ سامنے آتے ہیں ہم ان عنوانات کا ایک بنیادی خاکہ پیش کرتے ہیں:

  • اول تجدد پسندی : اس دائرے میں روایت یا خاص طور پر دین کی چلتی ہوئی روایت کا انکار کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے اہل علم کے درمیان متفق علیہ ہو یہ رویہ درحقیقت مغرب سے مستعار ہے اور اس کی جڑ جدت پسندی میں ہے جب مغرب سے استشراقی فکر مشرق میں آئی تو تجدد پسندانہ افکار پیدا کیے گئے۔
  • دوم علوم اسلامیہ کا انکار : جب بھی انکار حدیث ، انکار سنت یا مسلمانوں کی مجموعی فقہی روایت کا سرے سے انکار کیا جائے گا یا پھر اسلام کی تاریخی و فکری روایت کو یکسر رد کیا جائے گا تو یہ الحاد کا ابتدائیہ شمار ہوگا۔
  • سوم اسلامی شخصیات کا انکار : اس دائرے میں ناصبیت سے رافضیت تک یعنی اولین دور میں صحابہ رض یا اہل بیت علیہم السلام یا پھر خلافت راشدہ کی بابت سوالات اٹھائے جاتے ہیں یہاں تک یہ گروہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ہی سامنے آتا ہے بعد ازاں اس کی بدترین شکل خود انبیاء علیہم السلام کے حوالے سے اشکالات پیدا کرنا ہے لیکن اس دائرے کے لوگ مکمل دہریے ہوتے ہیں عام طور پر مشاجرات کے حوالے سے بات کرنے والے یا بعد کے ادوار میں اسلامی شخصیات یعنی فقہاء ، اولیاء یا مسلم فاتحین کو یکسر رد کرنے والے چند ایک کی بات نہیں یہاں گفتگو ہے یکسر رد کرنے والوں کی تو یہ گروہ بھی الحاد کی راہ ہی ہموار کرتا ہے۔
    الحاد کے مقابل محنت کا میدان اور شعبہ رد الحاد:
    رد الحاد کا شعبہ کوئی آسان شعبہ نہیں ہے خاص کر دور جدید میں یہ اپنی طرز کا ایک مستقل میدان ہے ماضی میں ہمارے علماء اور بزرگان دین نے باطل فرقوں ، جھوٹی نبوت کے دعوے داروں ، غیر مسلم یہودی اور صیہونی مستشرقین کے اعتراضات کا بخوبی مقابلہ کیا اسی طرح فلاسفہ و زنادقہ کے اعتراضات کا بھی بخوبی مقابلہ کرتے آئے ہیں لیکن جدید الحاد و دہریت صرف انکار خدا کا نام نہیں ہے بلکہ اس نے قدیم استشراق و عقل پرست اور باطل فرقوں سبھی سے مواد مستعار لیا ہے اسی لیے ہمیں اسلامی شخصیات پر جو اعتراضات روافض یا نواصب کے یہاں دکھائی دیتے ہیں وہی ملحدوں کے یہاں بھی دکھائی دیتے ہیں جو عقلی اشکالات معتزلہ و فلاسفہ نے اٹھائے وہی ملحد بھی اٹھاتے ہیں جو سوالات مستشرقین و منکرین حدیث کے مکتب سے بلند ہوتے ہیں وہی ملحدوں کی درسگاہوں میں بھی ملتے ہیں یعنی موجودہ دور میں رد الحاد درحقیقت ان تمام باطل گروہوں کے مجموعے سے مقابلے کا نام ہے۔
    رد الحاد کے حوالے سے ہمارے یہاں چار بنیادی طبقات کی ضرورت ہے:
  • محققین: جو اعلیٰ ترین الحادی حلقوں سے سوشل میڈیا تک اٹھائے جانے والے اشکالات کا علمی جواب تیار کر سکیں۔
  • مدرسین: جو نصاب سازی اور شعبہ تدریس میں رد الحاد کے حوالے سے کام کر سکیں۔
  • متکلمین: جو ملحدوں سے مختلف پلیٹ فارمز پر مباحثہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
  • داعی: جو نوجوان طبقے تک دین کی دعوت پہنچائیں اور انہیں ایمان کی دعوت دے کر الحاد کی طرف جانے سے روکیں۔
    الحاد کے خلاف محنت کے لیے درکار علوم و فنون:
    اس دائرے میں انکار حدیث کے خلاف محنت ہو ، دفاع صحابہ رض و اہل بیت ہو ، مسلم فقہاء کا دفاع ہو ، ختم نبوت ﷺ کی محنت ہو یہ تمام شعبے درحقیقت رد الحاد کے ہی شعبے ہیں۔ اس کے لیے ضروری امور درج ذیل ہیں:
  • بنیادی سطح: علوم القرآن اور تفسیر کا علم ، علوم الحديث اور تاریخ حدیث میں مہارت ، مستشرقین کے اعتراضات کا علم ، مشاجرات صحابہ رض کے حوالے سے اہل سنت کے منہج فکر سے واقفیت ، سلف صالحین اور فقہاء کے منہج سے واقفیت ، تاریخ اسلامی کے گمراہ فرقوں کے حوالے سے معلومات کا حصول ، مسلم تہذیب و تاریخ سے واقفیت وغیرہ۔ عقائد کو باقاعدہ سیکھنے اور علم الکلام کی چند ابتدائی کتب کا کسی مضبوط روایتی عالم سے مطالعہ بھی ضروری ہے۔
  • اعلیٰ سطح: فلسفے اور منطق سے واقفیت اور دور جدید میں فلاسفی آف سائنس کا بنیادی علم بھی ضروری ہے اسی طرح تاریخ اسلام ، سیاست ، معاشرت ، معیشت اور ثقافت و تہذیب اور تقابل ادیان کے بعض مباحث سے واقفیت بھی ضروری ہے۔
  • اعلیٰ ترین سطح: مغربیت سے واقفیت اس کی تاریخ اور اس کے اثرات کا جاننا اور مغربی مفکرین کے افکار اور ان پر علمی تنقید سے واقف ہونا بہت ضروری ہے۔
  • روحانی و اخلاقی اساس: سیرت نبوی ﷺ سے جڑاؤ، صحابہ رض و اہل بیت علیہم السلام سے محبت، اکابرین سے تعلق اور ذاتی سطح پر تزکیہ نفس انتہائی ضروری ہے۔
    ۲. دہریت کا دائرہ اور اس کے خلاف محنت کا میدان
    دہریت کا دائرہ الحاد سے اوپر ہے یہ براہ راست مذہب اور مابعد الطبیعیات کے خلاف اعتراضات کھڑے کرتا ہے اس کا بنیادی جوہر عقل پرستی اور مادیت پرستی ہے اس لیے یہ کبھی معجزات کا انکار کرے گا اور کبھی دیگر معتقدات کا انکار کرے گا۔ یہ مذہب پر درج ذیل دائروں میں سوالات اٹھائے گا:
  • اول مذہب کے مافوق الفطرت امور
  • دوم مذہب کی اخلاقی حیثیت
  • سوم عصر حاضر میں مذہب کی ضرورت و اہمیت
    دہریت کے خلاف محنت کا میدان:
    دہریت کے خلاف کام کرنے والے بنیادی سطح پر اسلامی علم الكلام کے حوالے سے مہارت حاصل کریں اس کے بعد منطق اور فلسفے کا علم بھی ضروری ہے اگر ان علوم پر مہارت نہیں تو پھر رد دہریت آپ کا میدان ہی نہیں ہے اس کے بعد معاصر دہریت کے عقلی اشکالات کا جواب منطقی استدلال کے دائرے میں ماہرین سے سیکھا جائے۔
    ۳. مغربیت اور فلسفہ مغرب کا میدان
    مغرب کے حوالے سے بنیادی مغالطہ یہ لگتا ہے کہ ہم نے فلسفہ مغرب اور مغربیت کو ایک ہی سمجھ لیا ہے جبکہ دونوں یکسر مختلف شعبہ جات ہیں۔ فلسفہ مغرب نے مغربیت کی تشکیل میں اہم کردار ضرور ادا کیا ہے لیکن معاشرے کی سطح پر مغرب کیا ہے وہاں افراد کا مزاج کیا ہے اس کا تہذیبی و نفسیاتی جائزہ لیے بغیر کوئی بھی دعوتی کام غیر مفید رہے گا۔
    مغربیت کا دائرہ دو بنیادی عنوانات پر مشتمل ہے اور ہر دو عنوانات کا علم انتہائی ضروری ہے:
  • اول فلسفہ و تاریخ مغرب : چاہے وہ جدیدیت ہو یا ابتدائی بیومنزم ہو ، قدیم فلسفہ یونان سے متاثر مغرب کی تحریک تنویر ہو ، رومانویت ہو ، عقل پرستی ہو ، مادیت پرستی ہو یا پھر تشکیک و دہریت ہو ان تمام فلسفوں کو ان کی مکمل تاریخ کے ساتھ سمجھنا مغربیت کا میدان ہے اس میدان کے مزید دائرے ہیں:
    • الف* سیاسی دائروں میں: مغربی فکر کی جانچ جیسے نیشنلزم یا سیکولر ازم کو سمجھنا ، عالمگیریت کے مزاج کو سمجھنا ، استعمار و مابعد استعمار کے مزاج کو سمجھنا ، ٹوٹيلي ٹيرين فکر سے واقف ہونا۔
    • ب* معاشی دائروں میں: مغربی فکر کی جانچ جیسے سرمایہ داریت یا اشتراکیت کے مزاج کو سمجھنا دنیا کو ایک عالمی منڈی بنا دینے والی فکر سے واقفیت وغیرہ۔
    • ج* معاشرتی دائروں میں: مغربیت کے مزاج کو سمجھنا جیسے لبرل ازم ، فیمینزم ، فریڈم آف اسپیچ وغیرہ اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فکر۔
    • د* عقل پرستی اور سائنس پرستی: کے مزاج کو سمجھنا اور اس کی بنیاد پر قائم مغربی فکر و فلسفے اور اس کے اثرات سے واقفیت۔
  • دوم مغربی تہذیب کا بیان : مغربی تہذیب درحقیقت ان فلسفوں پر ہی قائم ہے کہ جو اوپر بیان ہوئے لیکن اب اس تہذیب کی باقاعدہ ثقافتی اور مذہبی بنیادیں بن چکی ہیں اس نے معاشروں کا ایک مخصوص مزاج بنا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرے بحیثیت مجموعی مذہب گریز ہو رہے ہیں ان کا دائرہ کار کھانے پینے کی سطح سے لے کر ڈیزائنر لباسوں ، برانڈز ، جدید تہذیبی تقریبات اور رسوم و رواج یہاں تک کہ مذہب کی ایک خالص مادیت پرستانہ شکل تک آ چکا ہے۔
  • مغربیت کی مذہبی شکل : مغربیت نے مذہب کا کلی انکار نہیں کیا بلکہ مذہب کے معاشرے میں سیاسی ، ثقافتی ، سماجی ، قانونی دائروں کا انکار کیا ہے مغربیت کو رقص و سرود سے کوئی مسئلہ نہیں اسے مسئلہ مذہب کی عملی تشکیل سے ہے بلکہ بہت سی جگہوں پر وہ مذہبی تقریبات کو پروموٹ کرتا ہے جیسے ایسٹر یا ہولی دیوالی وغیرہ یا پھر مسلم معاشروں کی بہت سی رسومات مغربیت کا ایک بڑا عنوان مستقبل قریب میں ایک نئے مذہب کی تشکیل ہے۔
  • عالمگیری مذہب یعنی وحدت ادیان اور مغربیت : مغرب ایک طویل عرصے سے عالمگیری مذہب کی آواز لگا رہا ہے گو کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں دین اکبری ہو ، بہائیت ہو ، بابیت ہو اس کی بہت سی شکلیں موجود رہی ہیں لیکن موجودہ دور میں اسے دین ابراہیمی کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے جس میں تمام مذاہب کے مشترکہ عبادت خانے ہوں اور ان کی مشترکہ تعلیمات کو ایک نئے عنوان کے تحت متعارف کروایا جائے۔
    مغربیت کے رد کا میدان:
    یہ انتہائی اہم اور مشکل میدان ہے کیونکہ اس میدان میں آپ کا مقابلہ ایک غالب تہذیب سے ہے ایک ایسی تہذیب کہ جو عالمی سطح پر اپنے قدم جما چکی ہے یہ محنت انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک ہر دائرے میں کرنا ہوگی اس میں فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح تک اور معاشرے کی اصلاح سے ریاست کی اصلاح تک اور ریاست کی اصلاح سے امت کی اصلاح تک ہر شعبے میں کام ہوگا.
    جامع لائحہ عمل اور فکری تقاضے
  • علمی دائرہ: علمی دائرے میں مغربی فکر و فلسفے سے واقفیت کے ساتھ ساتھ عوام کا تعلق ان کی تاریخ و روایت سے جوڑا جائے. سب سے پہلے سیرت النبی ﷺ کو تحریکی انداز میں عوام کے اندر متعارف کروایا جائے ، اس کے بعد حیات الصحابہ رض و سیرت اہل بیت اطہار کا تعارف ہو اس کے بعد مسلم فقہا و مفکرین کا تعارف ہو مزید اسلامی سیاست ، اسلامی معاشرت ، اسلامی معیشت ، اسلامی نظام عدالت کے ماہرین تیار کیے جائیں.
  • عملی میدان: اس میدان میں خانقاہیں تزکیہ نفس پر محنت کریں کہ جو ان کا اصل کام ہے نہ کہ خود کو بدعات میں مبتلا رکھیں ، تبلیغی جماعتیں مسلم معاشرت کے قیام پر کام کریں اور مسلم سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دائرے میں احیاء اسلام کی محنت کریں.
  • تنظیمِ کار اور تخصصات: ہر چار طبقات (محققین، مدرسین، متکلمین، داعی حضرات) کے لیے الگ الگ ترتیب ہو اور یہ تمام طبقات ایک بڑے دائرے میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنیں۔ ہر متکلم ہر ہر شعبے کا ماہر نہیں ہو سکتا اسلیے قرآن و سنت کے محققین و متکلمین الگ ہوں گے تاریخ کے علماء الگ ہوں گے نظام پر بات کرنے والے الگ ہوں گے شخصیات کا دفاع کرنے والے الگ ہوں گے اور فلسفیانہ اور عقلی اعتراضات کا جواب دینے والے الگ لوگ ہوں گے۔ جب تک ہم ایک ترتیب کے ساتھ اس شعبے کا علم حاصل نہیں کریں گے اور تربیت کے عمل سے نہیں گزریں گے ہم مفید بننے کے بجائے مضر ثابت ہوں گے جس کا نقصان ناصرف ہمیں بلکہ دین کو بھی ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارہ جاتی اور جماعتی سطح پر اس عنوان کو لے کر نصاب سازی اور افراد سازی کا کام الگ الگ دائروں میں کیا جائے۔
    کیا یہ سب ممکن ہے ؟
    جی ہاں یہ سب ممکن ہے لیکن جب تک کام کا طریقہ اور اس کی جہات کا علم نہیں ہوگا اور ہمارا رخ درست سمت پر نہیں ہوگا اور ہم کامیابی کی جانب پہلا قدم بڑھانے سے بھی قاصر رہیں گے وقت جا رہا ہے لیکن ابھی گیا نہیں بلکہ یہ وہ وقت ہے کہ نتیجے سے بے پروا ہوکر خود کو اس کام کے لیے وقف کر دیا جائے افراد سازی سے لے کر معاشرے کی تشکیل تک یہ کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کام کو جاری رکھنے کے لیے ایسے رجال کار کی ضرورت ہے کہ جو خود کو دین کو وقف کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں

متعلقہ فتاویٰ