سوال ⚡پل صراط، حوض کوثر، سوال جواب کا دن یومِ حساب اللّٰہ رب العزت کے سامنے پیش ہونا یہ تمام مواقع الگ الگ وقت میں پیش آئگے ایک شخص اگر پل صراط سے اچھی طرح گزر گیا تو وہ جنت میں جائیں گا کوئی اگر پل صراط نہیں گزر سکا تو وہ جہنم میں جائیں گا جو شخص جنت میں داخل ہو جائیں گا کیا وہ شخص جنت سے واپس آکر اللّٰہ رب العزت کے سامنے پیش ہو کر اپنا نامہ اعمال وصول کرے گا اسی طرح جہنم میں جانے والا شخص بھی واپس آئگا جو شخص نبی رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر سے پانی پی لے گا تو اس شخص کو تو معلوم ہوگیا وہ کامیاب ہوگیا اور اگر پہلے اللّٰہ رب العزت کے سامنے پیش ہونا سوال جواب ہونا حق اور سچ ہیں نامہ اعمال مل جانے کے بعد تو ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا اس کے ساتھ ( ہماری معلومات) کے مطابق ایک جانور جہنمی افراد کو گردن سے پکڑ جہنم میں ڈال دیں گا تو فر پل صراط اور حوض کوثر کب واقع ہوگی آپ کی عین نوازش و کرم ہوگا آپ یہ چند گذارشات کو حل فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں گے شکریہ آپ عنایت کا طالب محمد یونس آمباتر
الجواب✨ بتوفیقِ اللّٰہ تعالٰی
پل صراط ،حوض کوثر ،سوال وجواب کادن
اس سوال میں احوالِ قیامۃ کی ترتیب کے حوالے بنیادی مغالطہ ہے وہ یہ کہ سائل نے پلِ صراط، دخول جنت یا جہنم کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی پرمقدّم کر رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ اعتراض پیش آیا ہے کہ "پلِ صراط سے گزرنے ، جنت یا جہنم میں داخل ہونے کے اسی طرح حوضِ کوثر سے پانے پینے کے بعد انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کتاب کے لئے پیش ہوگا، یہ بات بظاھر ذہن میں نہیں آرہی”۔دیکھیئے احوالِ قیامت مختلف مراحل پر مشتمل ہے جیسا کا سائل خود فرما رہے ہیں، اگر ان مختلف مراحل و مواقع کی ترتیب کا لہاذ رکھا جائے تو یہ اعتراض ختم ہو جائے گا ۔ انسان کے لیے قیامت کے احوال تو دنیا سے جانے (موت) کے متصل بعد عالمِ برزخ ( قبر) کی زندگی کی صورت میں شروع ہو جاتے ہے، البتہ بعث بعد الموت ( قیامت کے دن دوبارا زندہ ہونے کے بعد ) کے احوال جنہیں قیامت کے احوال کہا جاتا ہے قرآن و احادیث کی روشنی میں ان کی مختلف مراحل و مواقع بیان کی گئی ہیں جن کی ابتداء بعث بعد الموت کے بعد متصل اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے پیشی کی صورت میں ہوتی ہے۔ یہ وہ پیشی ہے کہ جس کے ذریعے انسان کے نیک بختی ( جنتی ) اور بد بختی ( جہنمی) ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ قرآن و احادیث میں اس کی طوالت سے ذکر موجود ہے، جن کا یہاں ذکر طوالت کی وجہ سے مشکل ہے ۔ اس پیشی میں انسانوں کے تین اصناف/ اقسام / جماعتویں ہوں گے” وَّكُنۡـتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰـثَـةً” ( سورۃ الواقعة آیت نمبر ۷)(۱)ایک خواص مومنین یا مقربین(۲) دوسرے عام مومنین(۳) تیسرے منکرین یا کفار،اس پچھلی صورت میں بھی ذکر انہیں تین طبقات کا تھا۔ ”کنتم“۔ خطاب یہاں موجودہ امت اور سابق امتوں سے مجموعی طور پر ہے۔ جیسا کہ روح المعانی میں ہے "خطاب للامۃ الحاضرۃ والامم السالفۃ تغلیبا کما ذھب الیہ الکثیر (روح المعانی) ازواجا” زوج” کی جمع ہے جو صنف یا قسم کے معنی میں ہے۔ اَزواجاً اَیْ اَصنافاً (کشّاف) ھٰکذ فی تفسیرِ ماجدی۔اس کے بعد پھر مختلف مراحل آئیں گے جہاں مؤمنین حوضِ کوثر پر حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پانے پینے کی سعادت حاصل کریں گا اور پھر پلِ صراط کے پار کرنے کا مرحلہ آئے گا۔
جب قیامت کے دن اللہ تعالٰیٰ کے حضور پیشی کا مرحلہ ہو جائے گا اور کفار کے بارے میں جنہم اور مسلمانوں کے حق میں جنت کا فیصلہ ہو جائے گا تو اب ایک مرحلہ اؤر بھی آئے گا جس کو "پلِ صراط” کہا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے” وَاِنۡ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتۡمًا مَّقۡضِيًّا (سورۃ مريم آیت نمبر ۷۱) ترجمہ: اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا گزر اس تک نہ ہو یہ آپ کے پروردگار پر لازم ہے جو پورا ہو کر رہے گا ۔ (مولانا عبد الماجد دریابادی)قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں جس "ورود” کا ذکر آیا ہے اس مراد تو جہنم ہی پر ورود ( عبور کرنا ) ہے جیسا کہ اکثر مفسرین کا بیان ہے، اور ساتھ ساتھ یہاں اس آیت مبارکہ میں جس چیز پر ورود ہو رہی ہے وہ بھی ثابت ہو رہا ہے، یہی وہ پل ( پلِ صراط) ہے جہیں احادیث میں "الجسر” کہا گیا ہے ۔ جیسا کہ ابنِ کثیر میں ہے قال عبدالرحمن بن زید بن اسلم ورود المسلمین المرور علی الجسربین ظھراینھا وورود المشرکین ان یدخلوھا (ابن کثیر)جنت اور جہنم کے فیصلے کے بعد پلِ صراط پر اہل ایمان اہل جنت والوں کا روکھا جانا اور بعض چیزوں کے بارے میں پوچھ ہونا جیسا کہ مسلم شریف کی اس طویل حدیث سے معلوم ہوتا ہے وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ فَأَکُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَلَا يَتَکَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَی الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ کَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ السَّعْدَانَ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ الْمُجَازَی۔ترجمہ :اور جہنم کی پشت پر پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم (اے اللہ سلامتی رکھ) ہوگی اور جہنم میں سعدان خاردار جھاڑی کی طرح اس میں کانٹے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے نیک اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پاجائیں گے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہوجائیں گے (صحیح مسلم حدیث ۴۵۱) اسی طرح صحیح البخاری میں ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ سے طویل روایت ہے جس میں حضور صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا”.ترجمہ: مومنین جہنم سے چھٹکارا پاجائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے۔۔۔الخ (صحیح البخاری)جنانچہ یہ بھی اسی حساب کا ایک حصہ ہے احادیثِ مبارکہ میں پلِ صراط کے حوالے سے کئی قسم کے لوگوں کا ذکر موجود ہے بعض بجلی کی طرح پار کریں گے، بعض مشکل کے ساتھ، بعضوں کو تنکے وغیرہ چھپتے ہوں گے۔ اس کے بعد جنت والے جنت میں داخل ہونے لگیں گے اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ان کا فیصلہ مکمل ہو جائے گا جسے قضا کہا جاتا ہے ۔فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز ؕ(سورۃ آلِ عمران) کامیاب صرف وہ شخص ہے جس کو دوزخ سے چھٹکارا مل جائے اور جنت میں داخل ہوجائے ۔ خواہ ابتداً ہی جیسا کہ صلحاء و عباد کے ساتھ معاملہ ہوگا یا کچھ سزا بھگتنے کے بعد جیسا کہ گناہ گار مسلمانوں کے ساتھ ہوگا، مگر مسلمان سب کے سب آخر کار جہنم سے نجات پا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت کی راحتوں اور نعمتوں کے مالک بن جائیں گے، بخلاف کفار کے کہ ان کا دائمی ٹھکانا جہنم ہے۔ لہذ جب احوالِ قیامۃ کی ترتیب ہمارے سامنے صحیح طور پر موجود ہو تو یہ سوال خود بخود ختم ہو جائےگا ۔
