🎯 الحاد و دہریت کے خاتمہ کا آسان انداز
سوشل میڈیا کی دنیا میں جب سے آن لائن ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کا کام شروع کیا تو اپنے سامنے بنیادی مقصد یہ رکھا اور اپنے ادارہ سے وابستہ ہر فرد کو اسی مقصد پر لانے کی کوشش کی کہ اپنے سامنے یہ مقصد ہو کہ ہم نے "علوم نبوت کا ہر شعبہ زندگی میں احیاء” کرنا ہے، یہ اصل الأصول مزاج سارے کام کی بنیاد ہے۔
اسی لئے ہمارے ادارے دارالریان اکادمی آن لائن میں تمام دینی کورسوں میں احادیث نبویہ کو بنیاد بنا کر کورس ڈیزائن کئے گئے ہیں، راقم کا روزانہ درس بخاری ہوتا ہے، معلمات کے درس ترمذی ہوتے ہیں اور دیگر تعلیمی سلسلے (درس قرآن، درس فقہ اسلامی، درس افتاء، مکاتب قرآنی اور دراسات اسلامیہ) بھی جاری رہتے ہیں، مقصد یہی ہے کہ علوم نبوت سے وابستگی پیدا کی جائے۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ "وحی (علوم نبوت) پر اعتماد بٹھائیں، خود شبہات اور عقلیات ختم ہوجائیں گی۔”
مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا تجدیدی کارنامہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے نبوت پر اعتماد بٹھایا تھا، مجددِ تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے سامنے بھی یہی بات تھی کہ جتنا امت کو علوم نبوت سے جوڑا جائے گا، اتنا ہی الحاد و دہریت کا خاتمہ ہوگا، تبلیغی محنت میں ایمان کی محنت صرف الفاظ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ ایمانی صفات و اسلامی تقاضوں کو زندہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وحی پر اعتماد بیٹھے، کتب احادیث اس نوع کے مضامین سے لبریز ہیں، بخاری، مسلم، ترمذی، مشکوة کی کتاب الإيمان کو اٹھا کر دیکھیئے کہ ایمان کے تعلق سے کتنے اعمال و اوصاف اور اخلاق و عادات کا ذکر کیا گیا اور "من الإيمان” کہہ کر کتنی باتوں کو بیان کیا گیا ہے، اب اگر ایمان والوں میں وہ سارے اوصاف اور اعمال و اخلاق پائے جارہے ہوں تو ان کو "کمالِ ایمان” حاصل ہے ورنہ "ضعفِ ایمانی” کا شکار ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الإيمان کے آغاز میں "الإيمان ھو قول و فعل” کہہ کر "اعمال” کی طرف اشارہ کیا اور "یزید و ینقص” کہہ کر ایمانی "ازدیاد” پر ترغیب بھی دی ہے جیسا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول مذکور ہے کہ وہ اسود بن ہلال رضی اللہ عنہ سے کہتے "اجلس نؤمن بربنا ساعة” کہ آؤ! ہم تھوڑی دیر ایمان کی باتیں کرلیں، ایمانی مذاکرہ کرلیں۔
البداية والنهاية (4/ 258) میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا قصہ مذکور ہے، جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے :
"تَعالَ نؤْمِنْ بربِّنا ساعةً”
کسی نے ناراضگی کا اظہار کیا، اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ابن رواحہ ہمیں ایمان کی ترغیب دیتے ہیں (جبکہ ہم تو مؤمن ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"رحم اللهُ ابنَ رواحةَ إنه يحب المجالسَ التي تَتباهى بها الملائكةُ”
اللہ تعالی، ابن رواحہ پر رحمت نازل فرمائے، وہ تو ان مجالس کو محبوب رکھتا ہے جن پر فرشتے فخر کرتے ہیں۔ (أخرجه أحمد : 13796)
حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ کے زمانہ میں جو اہل علم حضرات تبلیغی کام سے منسلک ہوچکے تھے، ان میں کتب حدیث کی کتاب الإيمان کی تعلیم بڑے اہتمام سے ہوتی تھی چنانچہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
"نماز کے بعد مولانا (محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ) حجرے میں واپس تشریف لے گئے، حاضرین کو دو گروہوں میں منقسم کیا گیا، ایک عربی داں طبقہ اور ایک غیر عربی …. عربی داں طبقہ کو کتاب الإيمان سے چند حدیثیں پڑھ کر سنائی گئیں اور ان پر باہم مذاکرہ رہا، معلوم ہوا کہ یہاں مقیم حضرات کے لئے اس نصاب کی تکمیل ضروری ہے۔”
(مولانا محمدالیاس اور ان کی دینی دعوت ص 164)
خود حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے ملفوظات (ص 106) وغیرہ میں بخاری شریف کی کتاب الایمان (ص: 12) میں ذکر کردہ حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کے اقوال جو ایمان و نفاق کے متعلق ہیں ملتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ اور آپ کے وقت میں تبلیغ سے منسلک حضرات اہل علم کتب حدیث کی کتاب الإيمان اور اس کے متعلقات کو خاص طور پر پیش نظر رکھتے تھے اور اس کا مطالعہ اور تعلیم بھی کرتے تھے، ایمان پر محنت کرنے والوں میں الحمد للہ ایسا جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ ایمانی اوصاف کو اپنے اندر پیدا کرنے اور قبول کرنے کو دل و جان سے تیار ہیں البتہ ان کو بتلانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔
بخاری شریف کتاب الایمان (ص: 6) کے ابتداء ہی میں امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا مکتوب نقل فرمایا ہے :
"إن للإيمان فرائضَ وشرائعَ وحدوداً وسنناً؛ فمن استكملها استكمل الإيمانَ، ومن لم يستكملها لم يستكملِ الإيمانَ”
ایمان کے کچھ فرائض (اعمال) شرائع (عقائد) حدود (ممنوعات) اور سنن (مطلوبات و مندوبات) جو ان کو ادا کرے گا تو اس کا ایمان کامل ہوگا اور جو ان باتوں کا لحاظ نہ کرے گا تو اس کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔
(مستفاد : افاداتِ مجدد تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ مرتبہ مفتی محمد زید مظاہری مدظلہم)
تبلیغی محنت کو شروع ہوئے سو سال (20 اکتوبر 2026ء کو) مکمل ہوگئے، ان سو سالہ عرصہ میں ایمانی محنت نے اس کام کو چھ براعظم تک پہنچایا ہے، سو آج کی ٹیکنالوجی اور مادیت کے دور میں بھی انہی "ایمانی اوصاف” کو مزید زندہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر دور کے "صنم اکبر” (مادیت اعلی) کا مقابلہ کرنے کی طاقت صرف "علوم نبوت” (روحانیت اعلی) کے پاس ہے، زمانے بدل جائیں، صدیاں گذر جائیں، میرے آقا ﷺ کا لایا ہوا دین قیامت تک زندہ رہے گا، میرے محبوب ﷺ کی ختم نبوت قیامت تک جاری رہے گی، جیسے آپ "خاتم النبیین” ہیں، ایسے ہی آپ کی کتاب "خاتم الکتب” ہے، آپ کی شریعت "خاتم الشرائع” ہے، آپ کے علوم "خاتم العلوم” ہیں، یہی اس وقت کا پیغام ہے، ان علوم نبوت میں پختگی پیدا کیجیئے، اپنی زندگی کا مقصد سمجھیئے، امت کی رہبری کا فریضہ انجام دیجیئے، کل روز محشر سرخروئی آپ کا مقدر ہوگی !!
